بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں دلہا کے دو بھائیوں کو گواہ مقرر کرنے کی صورت میں کیا وہ صرف دلہا کی طرف سے گواہ ہوں گے؟

سوال

 فتوی نمبر144010200854 کے مطابق جو میرے دو بھائی بطور گواہ ہوں گے وہ دونوں طرف سے یعنی میرے اور میری بیوی کے طرف سے گواہ ہوں گے یا صرف میرے نکاح کے گواہ ہوں گے؟ 

جواب

شرعاً نکاح کے انعقاد کے لیے صرف دو گواہ ضروری ہیں، خواہ وہ لڑکے کے رشتہ دار ہوں یا لڑکی کے، یا کسی کے بھی رشتہ دار نہ ہوں، لہذا وقت اگر دلہا (شوہر) کے دو بھائی بطورِ  گواہ موجود ہوں تو صرف دلہا کی طرف سے گواہ شمار نہیں ہوتے، بلکہ وہ نفسِ نکاح کے گواہ ہونے کی وجہ سے دلہا اور دلہن دونوں کے گواہ شمار ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200889
تاریخ17-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں