نقد روپوں پر زکاۃ کا شرعی طریقہ؟
سوال
نقد روپوں پر زکاۃ کا شرعی طریقہ؟
جواب
صاحبِ نصاب شخص کے پاس موجود قابلِ زکاۃ اموال (سونا، چاندی، نقد رقم، مالِ تجارت) پر سال گزر جائے تو جس قدر سونا، چاندی، نقد روپے، سامانِ تجارت اس کے پاس موجود ہو، اس سب کی قیمت لگالے، اور اگر کسی کو قرض دے رکھا ہے یا کسی اور طرح سے کچھ رقم دوسرے پر باقی ہے تو اس رقم کو بھی مذکورہ میزان میں شامل کرلے، نیز اگر اس کے ذمہ کسی دوسرے کا قرض ہو یا کسی اور طرح کا اس کا پیسہ اس کے ذمہ باقی ہو تو مذکورہ میزان میں سے اسے منہا کردے، پھر جو مجموعہ ملکیت حاصل ہو ، اسے چالیس سے تقسیم کردے، حاصل جواب (ڈھائی فی صد) زکاۃ کی مقدار ہوگی۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

