بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنِ پاک کے جو اوراق انتہائی بوسیدہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے کے قابل نہ ہوں ان کا حکم

سوال

امریکا  میں قرآنِ پاک کے بوسیدہ  نسخے  جو  پڑھنے  کے  قابل  نہ ہوں ان کو محفوظ  کرنے کا شریعت میں  کیا طریقہ بیان کیا گیا ہے؟  کیا ان کو پانی یا کیمیکل کے ذریعے تحلیل کیا جا سکتا ہے؟ یا دفنایا جا سکتا ہے؟  یا زمین میں دفنا کر پانی سے تحلیل کر سکتے ہیں  تا کہ کم سے کم جگہ گھیرے ؟

جواب

قرآنِ  کریم کے جو اَوراق  یا  نسخے  انتہائی بوسیدہ ہوجائیں اور استفادہ کے لائق نہ رہیں ان کی حفاظت کی بہتر صورت  یہ ہے کہ انہیں کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر گہرائی میں دفن کردیا جائے؛ تا کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو۔  دوسراطریقہ یہ ہے کہ کپڑے کے تھیلے میں ان اوراق یا نسخوں کے ساتھ پتھر رکھ کر دریا،سمندروغیرہ میں ڈال دیا جائے؛  تاکہ کنارے پر نہ آئے۔  

"درمختار مع ردالمحتار" میں ہے:

" المصحف إذا صار بحال لايقرأ فيه يدفن كالمسلم". (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطهارة، سنن الغسل (1/177) ط:سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200871
تاریخ16-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں