بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا تجدیدِ نکاح کے واسطے دو گواہوں کی موجودگی میں اپنا نکاح خود پڑھانے کا حکم

سوال

کیا میں اپنا تجدیدِ نکاح خود پڑھا سکتا ہوں، مثلاً میرے سامنے میری بیوی بیٹھی ہو اور میرے ابو اور دو بڑے بھائی بطورِ گواہ ہوں، اور اس طرح نئے مہر کے ساتھ ایجاب وقبول ہو تو اس طرح کوئی صورت بن سکتی ہے؟جب کہ میرے سمیت تینوں بھائی حافظ ہیں اور ابو بھی تبلیغ میں وقت لگا چکے ہیں۔ 

جواب

جی ہاں! آپ نکاح کی تجدید کرنے کے لیے اپنا نکاح خود بھی پڑھاسکتے ہیں، اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ  اپنے والد اور دونوں بھائیوں کی موجودگی میں خطبہ میں پڑھی جانے والی آیات اور ایک دو احادیث بطورِ خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد اپنی بیوی سے کہیں کہ میں نے آپ سے اتنے مہر کے بدلہ  نکاح کیا اور وہ جواب میں کہے کہ میں نے قبول کیا تو نکاح ہوجائے گا۔

تاہم بوقتِ ضرورت نکاح کی شرعی شہادت کی ادائیگی کے موقع پر آپ کے دونوں بھائی آپ کے نکاح کے دو گواہ ٹھہریں گے۔ والد اور اولاد ایک دوسرے کے حق میں شہادت نہیں دے کرسکتے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200854
تاریخ16-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں