بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر کب تک قصر نماز پڑھے گا؟

سوال

مسافر کب تک قصر نماز پڑھے ؟

جواب

اگر کوئی شخص سوا ستتر کلومیٹر  یا اس سے زیادہ دور منزل کی طرف سفر کے ارادے سے چلا ہو تو شہر کی آبادی کی حدود سے نکلنے کے بعد اس پر چا رکعت والی نماز میں قصر کرنا لازم ہوجاتا ہے، ایسا شخص شرعاً مسافر کہلاتا ہے، مسافر جب تک کسی علاقے میں پندرہ دن قیام کی نیت نہ کرلے یا جب تک واپس اپنے شہر کی حدود میں داخل نہ ہوجائے  وہ چار رکعت والی نماز قصر پڑھے گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200811
تاریخ14-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں