بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چار بیٹوں اور چھ بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

ایک آدمی فوت ہوا ، اس کی ایک بیوی 4 بیٹے 6 بٹیاں ہیں، میراث کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ اولاً مرحوم کے تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرضہ جات (اگر ہوں) ادا کیے جائیں پھر مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ادا کیا جائے، اس کے بعد  مرحوم کے کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کے 112 حصے کیے جائیں، اس میں سے 14 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے ہر ایک بیٹی کو  ملیں گے۔

یعنی فی صد کے اعتبار سے مرحوم کی بیوہ کو  12 اعشاریہ 5 فی صد، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو بھی 12 اعشاریہ 5 فی صد اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 6 اعشاریہ 25 فی صد ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200799
تاریخ14-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں