بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جماعت نکلنے کے اندیشہ کی صورت میں وضو کی سنتوں کا حکم

سوال

اگر جماعت چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو تو کیا وضو کی  سنتیں چھوڑ سکتے ہیں؟

 

جواب

وضو کو اس کی سنتوں کی رعایت کرکے پورا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر جماعت نکلنے کا اندیشہ ہو  تب بھی وضو  کو  مکمل سنتوں کے ساتھ ذرا جلدی جلدی کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 407):
’’وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: " «رجعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة إلى المدينة، حتى إذا كنا بماء بالطريق عجل قوم عند العصر فتوضئوا وهم عجال، فانتهينا بهم وأعقابهم تلوح لم يمسها الماء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ويل للأعقاب من النار، أسبغوا الوضوء» ) رواه مسلم‘‘.
" أسبغوا الوضوء " بضم الواو أي: أتموه بإتيان جميع فرائضه وسننه و أكملوا واجباته‘‘
.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200787
تاریخ13-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں