بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان سننے کا حکم

سوال

اذان کو سننے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اذان ہوتے وقت خاموشی سے اذان کو سننا اور اذان کا جواب دینا مستحب ہے اور  اذان کے وقت باتیں کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر کوئی تعلیم و تعلم میں مصروف ہو  اور درمیان میں اذان شروع ہوجائے  تو اس کے لیے علم سے متعلق باتوں میں مصروف رہنا مکروہ نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 399):

"والذي ينبغي تحريره في هذا المحل أن الإجابة باللسان مستحبة".

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 202):

"وحكى في التجنيس الإجماع على عدم كراهة الكلام عند سماع الأذان اهـ أي تحريماً وفي مجمع الأنهر عن الجواهر: إجابة المؤذن سنة. وفي الدرة المنيفة: أنها مستحبة على الأظهر".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200784
تاریخ13-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں