زکاۃ کی رقم سے مدرسہ کی لائبریری کے لیے کتابیں خریدنا
سوال
کیا زکاۃ کی مد سے مدرسوں کی دیگر لائبریری کے لیے کتب خریدی جاسکتی ہیں؟جن سے طلبہ واساتذہ دونوں ہی فائدہ اٹھاتے ہیں؟
جواب
زکاۃ ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے کسی مسلمان مستحقِ زکاۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے، لائبریری کے لیے کتاب خریدنے میں چوں کہ تملیک نہیں پائی جاتی ہے ، اس لیے زکاۃ کی رقم اس میں استعمال نہیں کی جاسکتی، اس سے زکاۃ دینے والوں کی زکاۃ ادا نہیں ہوگی، ہاں اگر زکاۃ کی رقم سے کتابیں خرید کر مستحقِ زکاۃ طالب علم کو مالک بناکر دی جائیں تو یہ جائز ہے، اس سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔"فتاوی عالمگیری" میں ہے:
" لايجوز أن يبنی بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولايجوز أن يكفن بها ميت، ولايقضى بها دين الميت، كذا في التبيين". (1/ 188، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ط: رشیدیہ) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

