بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نصاب سے کم تنخواہ کی رقم پر قربانی / ڈھائی تولہ سونا ملکیت میں ہو تو قربانی کا حکم

سوال

1- میں سرکاری ملازم ہوں اور میری ایک ماہ کی تنخواہ تقریباً تیس ہزار روپے ہے اور ان پیسوں میں سے تقریباً 16ہزار اپنے والدین کو بھیج دیتا ہوں، باقی اپنے خرچے کے لیے رکھ لیتا ہوں، آیا اب مجھ پر قربانی کرنا واجب ہے کہ نہیں؟

2- دوسرا میری بیوی کے پاس تقریباً ڈھائی تولہ سونا ہے توکیا اس پر قربانی کرنا واجب ہے کہ نہیں؟  میری بیوی کے پاس نقدی نہیں ہے، کبھی کبھار ایک ہزار روپے بھیج دیتا ہوں بچوں کے لیے اور سب بیوی بچوں کے خرچے والدین کرتے ہیں اور ہم سب یعنی والدین بھائی اورہم اکٹھے رہتے ہیں تو کیا اب میری بیوی قربانی کرے یا نہ کرے؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے پاس یہی تنخواہ کی رقم ہوتی ہے اور اس کے علاوہ آپ کے پاس سونا، چاندی اور ضرورت سے زائدسامان نہیں ہےکہ جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم کے بقدر ہو   تو آپ قربانی واجب نہیں ہے۔

2۔۔ آپ کی بیوی کے پاس اگر صرف ڈھائی تولہ سونا ہے، اس کے علاوہ چاندی یا اپنی ملکیتی رقم، اور ضرورت سے زائدسامان نہیں ہے تو آپ کی بیوی پر بھی قربانی لازم نہیں ہوگی، باقی آپ جو کبھی بچوں کے لیے ایک ہزار روپے بچوں کے لیے بھیجتے ہیں تو وہ نصاب میں شامل نہیں ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200773
تاریخ13-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں