بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا منت کے روزے لگاتار رکھنا ضروری ہیں؟

سوال

میں نے منت مانی کہ اگرمیرا بیٹا پیدا ہوا تو میں 30 روزے رکھوں گا۔ اب الحمدللہ اللہ تعالی نے بیٹا عطا فرمایاہے ،اب پوچھنایہ ہے کہ روزے لگاتار رکھنے ضروری ہیں یا وقفہ وقفہ سے رکھ سکتاہوں؟

جواب

اگر آپ نے منت مانتے وقت لگاتار روزے رکھنے کی نیت کی تھی تو پورے 30 روزے لگاتار رکھنے ہوں گے اور اگر لگاتار رکھنے کی نیت نہیں کی تھی تو متفرق طور پر بھی منت کے 30روزے رکھ سکتے ہیں۔
"ولو قال: لله علي أن أصوم يومين أو ثلاثة أو عشرة لزمه ذلك، ويعين وقتاً يؤدي فيه، فإن شاء فرق، وإن شاء تابع إلا أن ينوي التتابع عند النذر فحينئذ يلزمه متتابعاً، فإن نوى فيه التتابع، وأفطر يوماً فيه أو حاضت المرأة في مدة الصوم استأنف واستأنفت، كذا في السراج الوهاج". (فتاوی ہندیہ، ۱/۲۰۹، ریدیہ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200737
تاریخ11-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں