بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر میں دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کا حکم

سوال

میں سعودیہ عرب میں رہائش پزیر ہوں اور اکثر میں سفر میں ہوتا ہوں،  کیا میں دورانِ سفر  دو نمازیں  ظہر اور عصر ، یا مغرب و عشاء  ایک ساتھ پڑھ سکتا ہوں؟  یہاں پر تمام حضرات کرتے ہیں ۔

جواب

ہر  نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا ضروری ہے، احناف کے نزدیک سفر میں بھی دو نمازیں ایک وقت میں جمع کرنا جائز نہیں ہے، ہاں ضرورت کے موقع پر صورتاً دو نمازوں کو جمع کیا جاسکتا ہے، مثلاً ظہر کی نماز کو مؤخر کرکے آخری وقت میں پڑھ لیا جائے اور عصر کو ابتدائی وقت میں، اسی طرح مغرب کو مؤخر کرکے آخری وقت میں ادا کرلیا جائے اور عشاء کو اول وقت میں، یہ صورۃً  جمع ہے، سفر میں اس کی گنجائش ہے۔ لہذا حنفی مقلد کے لیے کسی شدید عذر کے بغیر اپنے مسلک سے عدول کرنا درست نہیں ہے،  بلکہ مذہبِ حنفی کے مطابق ہر نماز کو اس کے وقت میں اداکرنا ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200729
تاریخ11-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں