بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ریکارڈ شدہ اذان بے وقت سننا

سوال

بعض اوقات دِل کرتا ہے کہ انسان اذان کی ریکارڈنگ  سنے تو کیااذان کی ریکارڈنگ سننا جائز ہے؟ سوال پوچھنے  کی وجہ یہ ہے کہ کسی نے کہا ہے کہ بے وقت اذان نہیں سننی  چاہیے۔یعنی جب نماز کا وقت ہو تب ہی اذان پڑھنی یا سننی چاہیے. براہِ مہربانی اس معاملے میں میری راہ نمائی فرمائیے۔

جواب

  بے وقت اذان کہنا از روئے شرع درست نہیں، تاہم ریکارڈ شدہ اذان سننے میں کوئی حرج نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200653
تاریخ08-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں