بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض کے ایام میں نمازوں کے اوقات میں عورت کو کیا کرنا چاہیے؟

سوال

عورت حیض کے ایام میں نمازوں کے اوقات میں کیا کرے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ کی طرف سے حیض کے ایام میں نمازوں کے اوقات میں عورت کے ذمہ کسی  قسم کی کوئی عبادت نہیں ہے، البتہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ اس کا کوئی بھی وقت ذکر اللہ یا بامقصد کاموں سے خالی نہ ہو، لہٰذا حیض کے ایام میں عورت کے ذمہ چوں کہ نماز پڑھنا تو نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان اوقات کو فضول کاموں  میں لگ کر ضائع کردیا جائے، بلکہ ان اوقات کو مفید دینی کتب کے مطالعہ اور اذکار و دعاؤں میں صرف کرنا چاہیے۔ 

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے کہ حائضہ عورت کے لیے مستحب ہے کہ نماز کے وقت وضو کرکے جتنی دیر نماز پڑھنے میں لگتی ہے، اتنی دیر مصلیٰ بچھا کر بیٹھ کر ذکر و دعا کرتی رہے، تاکہ عام اوقات میں جو وقت عبادت میں لگتا تھا وہ ضائع بھی نہ ہو اور عبادت کی عادت بھی باقی رہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200649
تاریخ08-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں