بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لنڈے کے مال میں کارٹون نکل آنے کی صورت میں اسے بیچنے کا حکم

سوال

ہمارا کام پرانےلنڈے کا کاروبار ہے، جس میں مختلف قسم کی ورائٹی ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھی مال میں باہر ملک سے کارٹون بھی آجاتے ہیں، کیا ہم اس کارٹون کو بیچ سکتے ہیں یا نہیں؟ کارٹون ہمارا کاروبار نہیں، لیکن پیک بنڈل میں آجاتے ہیں۔

جواب

کارٹون  چوں کہ  جان دار کی تصویر پر مشتمل ہوتا ہے، بلکہ خود بعینہ  خالص تصویر/مجسمہ  ہی ہوتا ہے جو کہ حرام ہے اس لیے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے،  اگر آپ کے مال میں کارٹون نکل آئے تو اس کو تلف کردیا کریں یا کم از کم اس کا سر کاٹ دیا کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200603
تاریخ05-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں