بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آپریشن سے ولادت کی صورت میں نفاس کا حکم

سوال

بچے کی پیدائش اگر آپریشن کے ذریعے ہوجائے تو عورت کے نفاس کی کیا مدت ہوگی؟ اور اس کا  کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ولادت خواہ فطری طریقہ سے ہو یا آپریشن کے ذریعہ سے ہو بہر صورت اس کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس کا شمار ہوگا، نفاس کے خون کی کم سے کم مدت چوں کہ متعین نہیں، لہذا ایک دن بعد یا پیدائش کے دن بھی اگر مکمل طور پر  خون بند ہوجائے تو  یہ ایک دن ہی نفاس کا شمار ہوگا، اور مکمل خون بند ہوجانے کے بعد مذکورہ خاتون کے لیے غسل کرنے کے بعد نماز و دیگر  عبادات کرنے کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200582
تاریخ04-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں