بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈوبتے چاند کی تاریخوں میں نکاح کرنے کا حکم

سوال

میرا نکاح چاند کی 23 کو ہونا قرار پایا ہے،  مگر کہتے ہیں کہ ڈوبتے چاند میں نکاح نہیں کرنا چاہیے، اس حوالے سے راہ نمائی کر دیں!

جواب

چاند  کی کسی بھی تاریخ میں نکاح کرنے میں شرعاً   کوئی حرج نہیں، اس بارے میں عوام میں جتنے بھی اوہام مشہور ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200535
تاریخ02-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں