بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حق دار کی رقم کو اس کے کسی کام میں صرف کرنا

سوال

فتوی نمبر : 143809200003 میں یہ بات سامنے آئی کہ رقم واپس کی جائے اگر یہ رقم میں خود کسی جگہ پر خرچ کروں (یعنی مجھے سرکاری رقم سے جو کام کرنا ہو)  بجائے رقم کی واپسی کے میں خود اس کو خرچ کرسکتاہوں سرکاری کام میں خرچ کرلو ں یا ضرور اس کو واپس کرنا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سرکاری ادارے کی جس قدر رقم آپ کو واپس کرنی ہے وہ  اگر براہِ راست ان کو پہنچانا مشکل ہو تو کسی بھی طریقہ سے سرکاری خزانہ میں رقم جمع کرانے سے آپ بری ہوجائیں گے۔ اس کو اپنے کام کے لیے یا سرکار کے دوسرے کام کے لیے ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا درست نہیں ہوگا، ہاں اگر کوئی سرکاری کام ان کے حکم سے آپ کو کرنا ہو اور آپ اس کام کے پیسے ان سے لینے کے بجائے اس رقم کو اس میں استعمال کرلیں تو اس کی گنجائش ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200533
تاریخ02-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں