بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاڑھی کا شرعی حکم اور ڈاڑھی منڈوانے والے کو امام بنانا

سوال

داڑھی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جو بندہ داڑھی منڈواتا ہے کیا وہ مستقل امام بن سکتا ہے؟

جواب

داڑھی رکھنا واجب اور اس کو منڈوانا یا کترواکر ایک مشت سےکم کرنا ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے۔اور اس کا مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے، اور ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ، اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔

’’حلبی کبیر ‘‘  میں ہے:

"و لو قدّموا فاسقاً يأثمون بناء علي أن كراهة تقديمه كراهة تحريم ؛ لعدم اعتنائه بأمور دينه، و تساهله في الإتيان بلوازمه..."الخ ( كتاب الصلوة، الأولی بالإمامة، ص: ٥١٣، ٥١٤ ط: سهيل اكيدمي) فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا تفصیلی فتوی ملاحظہ کریں:

ڈاڑھی کی شرعی حیثیت اور ڈاڑھی نہ رکھنے کا گناہ

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200509
تاریخ01-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں