بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جہری نمازوں کی سنتوں میں کیا جہراً قراءت کر سکتے ہیں؟

سوال

جہری نمازوں کی سنتوں اوروتر کی نماز میں جہراً قراء ت کی جاسکتی ہے یانہیں؟

جواب

دن کی سنن و نوافل میں آہستہ قراءت کرنی چاہیے، جب کہ رات کی سنن و نوافل میں پست و بلند آواز سے قراءت کرنے کا مصلی کو اختیار ہے، البتہ بلند آواز میں تلاوت کی صورت میں اتنی آواز میں تلاوت کرے کہ ارد گرد کے لوگوں کے معمولات میں خلل واقع نہ ہو۔ جیساکہ فتح القدیر لابن الہمام میں ہے:

"وفي التطوع بالنهار يخافت، وفي الليل يتخير؛ اعتباراً بالفرض في حق المنفرد، وهذا لأنه مكمل له فيكون تبعاً". (1/ 327):   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200487
تاریخ30-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں