بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کو سجدہ میں پانے والے شخص کا جماعت میں شامل ہونا

سوال

عشاء کی نماز باجماعت کی پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں شامل ہوا، امام کے سلام پھیر نے کے بعد ایک رکعت ادا کی، نماز کے اختتام پر برابر والے صاحب نے کہا کہ چار رکعت نماز میں آٹھ سجدے ہوتےہیں آپ نے نو سجدے کرلیے،  پتا  نہیں کیا نماز پڑھی ہے۔ میں جب سے شش و پنج میں مبتلا ہوں ۔

جواب

جماعت کے دوران آنے والے شخص (مسبوق) کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ نماز کے دوران امام کو جس رکن میں پائے تکبیرِ تحریمہ کہہ کر اس کے ساتھ  جماعت میں شامل ہوجائے،  اگرامام سجدہ میں ہو تو مقتدی بھی اس سجدہ میں شامل ہوجائے، مقتدی کا یہ سجدہ ادا ہوجائے اگرچہ اس کی وہ رکعت شمار نہیں ہوگی۔ لہذا آپ کا عمل درست تھا، دوسرے صاحب کا اعتراض بے جا تھا۔

" عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله ﷺ: ’’ إذا أتی أحدکم الصلاة والإمام علی حال فلیصنع کما یصنع الإمام ‘‘ ۔ (جامع الترمذی :۱/۱۳۰، باب ما یدرك الرجل الإمام) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200480
تاریخ29-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں