بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آئندہ سفر کی وجہ سے روزہ چھوڑنا

سوال

ایک آدمی کا دن کو سفر کا ارادہ ہے تو کیا وہ رات کو روزہ رکھے گا یا نہیں؟  شریعت کی روشنی میں میں مدلل جواب مطلوب ہے۔

جواب

اگر صبح صادق کے وقت اپنے علاقے میں ہوگا، دن میں سفر کا ارادہ ہے تو  اس پر اس دن کا روزہ رکھنا لازم ہے۔ اس لیے کہ صبح صادق کے وقت یہ مسافر نہیں ، محض نیت سے سفر شروع نہیں ہوتا۔

  الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 431):

’’(ولو نوى مسافر الفطر) أو لم ينو (فأقام ونوى الصوم في وقتها) قبل الزوال (صح) مطلقاً، (ويجب عليه) الصوم (لو) كان (في رمضان)؛ لزوال المرخص (كما يجب على مقيم إتمام) صوم (يوم منه) أي رمضان (سافر فيه) أي في ذلك اليوم، (و) لكن (لا كفارة عليه لو أفطر فيهما) للشبهة في أوله وآخره.

(قوله: ويجب عليه الصوم) أي إنشاؤه حيث صح منه بأن كان في وقت النية ولم يوجد ما ينافيه، وإلا وجب عليه الإمساك كحائض طهرت ومجنون أفاق كما مر، (قوله: كما يجب على مقيم إلخ) لما قدمناه أول الفصل أن السفر لا يبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، فلو سافر بعد الفجر لايحل الفطر‘‘.  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200476
تاریخ29-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں