بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کا پیسہ مدرسہ میں بطورِ قرض لگانا

سوال

مسجد کا پیسہ بطورِ قرض مدرسے میں لگانا کیسا ہے؟

جواب

مسجد کا پیسہ مسجد کے خزانچی کے پاس امانت ہوتا ہے، اور امانت میں بلا اجازتِ مالک تصرف کرنا جائز نہیں؛ لہذا  اگر مسجد و مدرسہ کا نظم مستقل طور پر جدا ہو اور تعاون کرنے والے لوگ مسجد اور مدرسے میں سے ہرایک کے فنڈ کو مستقل سمجھ کر جداگانہ تعاون کرتے ہوں تو مسجد کا پیسہ مدرسے میں بطورِ قرض دینا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200461
تاریخ29-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں