بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مریض کے لیے آسانی کی دعا کر سکتے ہیں؟

سوال

ایک عمر رسیدہ مریض، جس کی دماغی اور جسمانی حالت بہت بری ہو, اس کی آسانی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟  نیز اس کی آسانی کے لیے دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو اس کے لیے کوئی خاص دعا یا عمل بتادیں!

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماروں پر یہ دعا پڑھ کر دم فرمایا کرتے تھے:

"اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أَذْهِبِ الْبَأْسَ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَایُغَادِرُ سَقَمًا".

یعنی: ’’اے اللہ لوگوں کے ربّ! تکلیف کو دورفرما دے، توشفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری ہی شفا شفا  ہے۔تو ایسی شفا عطا فرما جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے۔‘‘

باقی اگر کسی مریض کی حالت بہت زیادہ خراب ہو اور مریض انتہائی تکلیف میں ہو تو اس کے لیے اللہ تعالیٰٰٰٰٰٰ سے اس کے حق میں عافیت کی دعا مانگنا بھی جائز ہے، اور ہر مشکل کے حل کے لیے آیتِ کریمہ "لا إله إلا أنت سبحانك إني کنت من الظالمین"  نہایت مفید ہے؛ لہذا اس آیت کا خوب ورد کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200454
تاریخ28-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں