بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کترنے والے کی امامت اور تراویح پر اجرت

سوال

 زید ایک مسجد میں امام و خطیب ہے اور الحمداللہ قرآن کا حافظ بھی ہے جس کی وضع قطع شریعت کے مطابق ہے، وہ ہر سال قرآن سناتا ہوا آیا ہے پر اس مسجد کے منتظمین حضرات کا کہنا ہے کہ ہماری مسجد کا نظام ہے کہ ہم ایک اور قرآن سنانے کی غرض سے حافظِ قرآن لاتے ہیں باہر سے، دس تراویح امامِ مسجد اور دس تراویح حافظِ قرآن جو صرف رمضان میں ہی آتا ہے پڑھاتا ہے جو داڑھی کٹاتا ہے اور یہ عمل یعنی ڈاڑھی کاٹنا کٹانا رمضان میں بھی کرتا ہے، اس کے پیچھے تراویح کا پڑھنا کیسا ہے؟ منتظمینِ مسجد امام یا تراویح کے نام سے آئے ہوئے نذرانے کو دو حصوں میں تقسیم کردیتے ہیں، جب کے دور دراز سے زید اپنے گھر والدین کو چھوڑ کر اپنے اہل و عیال کے ساتھ چھ افراد کو لے کر  6000 روپے میں امامت کی خدمت انجام دے رہا ہے اور ویسے بھی امام قلیل تنخواہ ہونے کہ وجہ سے بڑی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں تو نذرانہ کا حق دار کون  ہے امامِ مسجد یا حافظِ  قرآن؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں کئی مسئلے ہیں:

1- داڑھی کٹانے والے شخص کے پیچھے تراویح پڑھنا جائز نہیں، خواہ وہ نذرانہ نہ لیتا ہو۔

2-صرف تراویح پڑھا کر اجرت لینا جائز نہیں، البتہ فرض نماز پڑھا کر اپنے اس وقت کی اجرت لینے کو علماء نے جائز بتایا ہے۔ مذکورہ صورت میں امامِ عشاء کی نماز بھی پڑھاتاہے لہذا اس کے لیے اضافی بونس یا تعاون لینے کی اجازت ہے. 

3-امام مسجد کا حق ہے اہلِ محلہ پر کہ اس کی ضروریات کی کفالت کریں ، اگر مسجد کی مقرر تنخواہ کافی نہ  ہو تو  ویسے بھی اس کی مدد کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200448
تاریخ28-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں