بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کے لیے میڈیسن کمپنی کا ہدیہ لینا

سوال

کیا میڈیسن کمپنی کا گفٹ لینا جائز ہے؟ 

جواب

اگر میڈیسن کمپنی کسی  ڈاکٹر کو کوئی ہدیہ دیتی ہے اور اس ہدیہ کی وجہ سے ڈاکٹر مریضوں کو اسی کمپنی کی ایسی دوائی لکھتا ہے جو مکمل طور پران کےموافق نہ ہو تو اس کمپنی کا ہدیہ لینا جائز نہ ہو گا،  بلکہ یہ رشوت کہلانے کے لائق ہو گا،  لہذا اگر کسی ڈاکٹر کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ کمپنی کا ہدیہ قبول کرنے سے ایسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں تو اس ہدیہ کو قبول کرنا درست نہیں ہے۔

اور اگر کمپنی کوئی ہدیہ ڈاکٹر کو صرف اپنی دوائی کی تشہیر کے لیے دیتی ہے اور  اس کے کوئی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ نہ ہو یعنی اس کمپنی کی دوا معیاری اور مریض کے لیے زیادہ مناسب ہو تو ایسے ہدیہ کا قبول کرنا جائز ہے. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144010200443
تاریخ27-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں