بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کی میراث

سوال

‏کسی شخص کی اگر صرف بیٹیاں ہوں تو وراثت میں  اس کے بھائیوں کو حصہ ملتا ہے؟

جواب

جی ہاں ! اگر ‏کسی شخص کا انتقال ہو اور اس کی صرف بیٹیاں ہوں، اور مرنے والے کے والد زندہ نہ ہوں  تو وراثت میں  اس کے بھائیوں کو حصہ ملتا ہے ۔اگر میت کے والد ہوں تو بھائی کو کچھ نہیں ملتا۔

"العصبة بنفسه الذکر الذي لایفارقه الذکور في نسبته إلی المیت". (المبسوط للسرخسي ۲۹؍۱۳۸ بیروت)

الموسوعة الفقهية الكويتية (3/ 42):
"الأول: جزء الميت، والثاني أصله، والثالث جزء أبيه، والرابع جزء جده.
فيقدم في هذه الأصناف والمندرجين فيها الأقرب فالأقرب، أي يرجحون بقرب الدرجة. فأولاهم بالميراث بنو الميت، ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصل الميت أي الأب، ثم أبوه وإن علا".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200433
تاریخ27-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں