بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شلوار/ پائجامہ بیٹھ کر پہننا

سوال

 کئی اسلامی کتابوں میں پڑھا ہے کہ کپڑے پہنتے ہوئے خاص کر پاجامہ/شلوار بیٹھ کر پہننا چاہیے۔ اس میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے؟  کئی بار یہ ممکن نہیں ہوتا؛کیوں کہ اگر آپ غسل خانے میں ہیں تو کپڑے نجاست وغیرہ سے خراب ہونے کا ڈر رہتا ہے۔ 

جواب

جن کتابوں میں بیٹھ کر  شلوار/ پاجامہ پہننے کا ذکر ہے اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ ستر کا اہتمام ہے، بیٹھ کر پہننے کی صورت میں ستر کم سے کم کھلے گا جب کہ کھڑے ہو کر شلوار وغیرہ پہننے کی صورت میں ستر نسبۃً زیادہ کھلتا ہے، رہی بات جہاں بیٹھ کر شلوار پہننا مشکل ہو یا اس میں حرج ہو  یا اس میں اور زیادہ بے پردگی کا امکان ہو یا کپڑے تبدیل کرتے وقت تنہا ہو اور قریب میں کوئی موجود نہ ہو تو کھڑے ہو کر بھی تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں، خاص کر جب کہ ایسی جگہ ہو جہاں کپڑے گیلے یا ناپاک ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی جگہوں پر کھڑے ہو کر ہی کپڑے تبدیل کرنے چاہییں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200425
تاریخ27-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں