بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو کی جماعت میں تیسرا آجائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر ایک مقتدی ہو اور جماعت کھڑی جائے، دورانِ نماز دوسرا مقتدی بائیں جانب کھڑا  ہوجائے تو امام کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

اگر دو مرد یعنی ایک امام اور ایک مقتدی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہوں، پھر ایک تیسرا شخص آ جائے تو  اگر جگہ میں وسعت ہو تو امام کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ جائے اور دونوں مقتدی پیچھے کھڑے ہوجائیں۔ اگر امام کے آگے بڑھنے کی جگہ نہ ہو یا امام کو نو وارد مقتدی کا پتا نہ چلے اور وہ آگے نہ بڑھے تو پہلے مقتدی کو چاہیے کہ وہ خود پیچھے ہوجائے؛ تاکہ دونوں مل کر امام کے پیچھے صف بنا لیں، اگر مقتدی بھی پیچھے نہ ہٹے تو وہ تیسرا آدمی اس کو پیچھے کھینچ لے خواہ تحریمہ باندھ کر یا اس سےپہلے کھینچے۔ آج کل لوگ مسائل سے واقف نہیں؛  اس لیے اگر گنجائش ہو اور امام کو اندازا ہوجائے کہ ایک اور مقتدی آیا ہے تو امام ہی آگے بڑھ جائے۔

اور اگر جگہ میں وسعت نہ ہو تو دونوں مقتدی امام کے دائیں اور بائیں جانب جس قدر پیچھے ہوسکیں (ایک دو قدم) پیچھے ہوکر کھڑے ہوجائیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200401
تاریخ26-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں