بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مٹٰی کھانا

سوال

مٹی کھانا کیسا ہے?  اور کیا اس کا کوئی شرعی علاج ہے?  اس کے کھانے میں کوئی گناہ ہے?

جواب

نفسِ مٹی کھانا گناہ نہیں ہے، لیکن مٹی کھانا چوں کہ مضر  ہے؛ اس لیے مکروہ ہے، اور اگر کوئی جان کر مٹی کھائے اور اسے نقصان پہنچے تو جس درجے کا نقصان اور اس کا ارادہ شامل ہوگا اسی درجے اپنے نفس کو نقصان پہنچانے کا گناہ ہوگا۔ مٹی کھانے کے علاج کے بارے میں اطباء  سے رجوع کیا  جائے،اس کا کوئی شرعی علاج  ہمارے علم میں نہیں۔ 

"أکل الطین مکروه ․․․․ الطین الذي یحمل من مکة ویسمی طین حمرة هل الکراهیة فیه کاالکراهیة في أکل الطین علی ما جاء في الحدیث؟ قال: الکراهیة في الجمبع متحدة. وسئل بعض الفقهاء عن أکل طین البخاری ونحوه؟ قال: لابأس بذلک مالم یضره، وکراهیة أکله لا للحرمة بل لتهییج الداء ․․․․ وسئل أبوالقاسم عمن أکل الطین قال: لیس ذلک من عمل العقلاء ... الخ (الهندیة،  ۵/۳۹۴، کتاب الکراهیة) 

"ویکره أکل الطین؛ لأن ذلک یضره فیصیر قاتلاً نفسه". (فتاویٰ قاضي خان علی هامش الفتاوی الهندیة: ۳/۴۰۳) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200399
تاریخ26-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں