بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل میں نیت کرنا یاد نہیں رہا

سوال

میں فرض غسل کرنے کے لیے گیا، غسل کے فرائض پورے کیے، لیکن یہ یاد نہیں رہا کہ نیت کی تھی یا  نہیں؟  کیا اب مجھے دوبارہ غسل کرنا پڑے گا یا میرا غسل ہو گیا ہے؟

جواب

آپ کا غسل ہو گیا، دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں،  البتہ نیت کرنا سنت ہے، اگر نیت نہیں کی تو سنت کے ثواب سے محرومی رہی۔ واضح رہے کہ نیت نام ہے دل کے ارادے کا، اس کے لیے الفاظ ضروری نہیں ہیں، اس لیے اگر غسل سے پہلے آپ کے دل میں یہ ارادہ تھا کہ میں عبادات کی ادائیگی یا طہارت کے حصول کے لیے غسل کررہاہوں تو نیت ادا ہوگئی۔

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (1/ 527):

"وأوجب الجمهور (غير الحنفية) النية للغسل كالوضوء ؛ للحديث: «إنما الأعمال بالنيات»". والابتداء بالنية عند الحنفية سنة؛ ليكون فعله تقرباً يثاب عليه، كالوضوء".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200380
تاریخ25-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں