بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے یا بیٹی کا والد کی جیب سے چھپ کر پیسے لینے یا جھوٹ بول کر اسکول فیس کی مد میں زیادہ پیسے لینے کا حکم

سوال

اگر بیٹا والد کی جیب سے بغیر بتائے پیسے چھپتا لیتا ہے تو کیا یہ چوری کے زمرے میں آئے گا ؟ اسی طرح سکول کی فیس 500 ہے اور بیٹا ہزار روپے لیتا ہے، گھر سے فیس کے بتا کر تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اگر یہی کام کوئی لڑکی کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

بیٹے یا بیٹی  کا والد کی جیب سے بغیر بتائے چوری چھپے پیسے لینا چوری کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز ہے، اسی طرح اسکول کی فیس  (مثلاً) ۵۰۰ ہونے کی صورت میں جھوٹ بول کر فیس کی مد میں ہزار روپے لینا بھی جھوٹ اور دھوکا دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200379
تاریخ25-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں