بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم بیٹے کے ترکہ میں کیا ظالم باپ کا حصہ ہوگا؟ سوتیلی ماں کا کیا حصہ ہے؟

سوال

ایک بندے کا ایک بیٹا ہے،  اس آدمی کی بیوی فوت ہوگئی تو اس نے دوسری شادی کر لی، دوسری بیوی کے آتے ہی اس نے اس دوسری بیوی کے کہنے پہ بیٹے کو گھر سے نکال دیا اور اپنی جائیداد سے بھی برطرف کردیا۔ وہ بیٹا ماموں کے پاس پلا اور بڑا ہو کر اپنی محنت مزدوری سے جائیداد بنائی۔ پھر اچانک اس بیٹے کی موت ہو گئی۔ مرحوم کے 4 بیٹے ہیں۔ اب وہ ظالم باپ اور سوتیلی ماں اس کی جائیداد کے حصہ دار بنے ہوئے ہیں۔ اب اس کی جائیداد کو ان ظالموں سے کیسے بچایا جائے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مرحوم بیٹے کی متروکہ تمام جائیداد  منقولہ و غیر منقولہ میں والد کا شرعاً چھٹا حصہ (٪66۔ 16) ہے، اور اگر مرحوم بیٹے کی بیوہ حیات ہے تو اس کا آٹھواں حصہ (٪5۔12) ہے۔ باقی تمام منقولہ وغیر منقولہ جائیداد (یعنی ٪84۔70حصے)  کے وارث، اس کے بیٹے ہیں جو برابری کے اعتبار سے اس جائیداد کے حق دار ہیں۔ اور اگر مرحوم بیٹے کی بیوہ حیات نہیں ہے تو والد کا حصہ  (٪66۔ 16)  نکالنے کے بعد بقیہ (٪34۔83 حصے) کے وارث اس کے بیٹے ہوں گے جو برابری کے اعتبار سے وراثت کے حق دار ہوں گے۔ 

بہر صورت مرحوم بیٹے کی متروکہ جائیداد میں اس کی سوتیلی ماں کا شرعاً  کوئی حصہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200367
تاریخ24-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں