بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بوڑھے والد کی دوسری شادی کرانا

سوال

بوڑھے والد جن کی زوجہ انتقال کر گئی ہیں تو  کیا ان کی شادی کروانا کسی بیوہ سے جائز ہے؟ اگر وہ بوڑھا باپ خود بھی چاہتا ہو کہ ان کا خیال رکھنے والا ہو تو کیا شادی کروا دی جائے؟

جواب

اس میں  شرعاً   کوئی حرج نہیں، بلکہ  والد کو خدمت کی ضرورت ہو تو ان کی دوسری شادی کرانے سے غلط رسم و رواج  کا خاتمہ بھی ہوگا، والد کی اطاعت اور راحت رسانی کا ثواب بھی ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200357
تاریخ24-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں