بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم کا مصرف

سوال

سود کی رقم اہلِ زکاۃ  کو دی جا سکتی ہے؟  اگر ایسا ہی ہے تو کسی اہلِ زکاۃ  بندہ یا بندی کو پانی کی موٹر، بیٹی کی شادی، بچوں کی تعلیم, قرضہ واپسی کے لیے رقم دی جا سکتی ہے؟ کیا سود کی رقم مدرسہ کو دی جا سکتی ہے؟

جواب

1-  جی  ہاں! سودی رقم کو اگر اس کے مالک تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو اس کا مصرف یہی ہے کہ کسی مستحقِ زکاۃ  کو وہ رقم ثواب کی نیت کے بغیر مالک بناکر دے دی جائے؛ لہٰذا مذکورہ مقاصد کے لیے مستحقِ زکاۃ شخص کو سودی رقم دی جاسکتی ہے۔

2-مذکورہ حکم کی روشنی میں ایسے مدارس میں سودی رقم دی جاسکتی ہے جہاں زکاۃ کا مصرف موجود ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200354
تاریخ23-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں