بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرک (مقتدی) کا سلام کے بغیر سجدہ سہو کرنے کا حکم

سوال

مقتدی  نے امام کےساتھ سجدہ سہو کاسلام نہیں پھیرا، لیکن دونوں سجدے کرلیے  مقتدی کی نماز ہوگئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مقتدی کو چاہیے تھا وہ امام کے ساتھ دائیں طرف سلام پھیر  کر پھر سجدہ سہو کے دو سجدے کرتا، تاہم اگر مقتدی نے کسی وجہ سے امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرا اور دو سجدے کرلیے تو اس کی نماز ہوگئی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 463):
"فإن سجد قبل السلام كره تنزيها" ولايعيده لأنه مجتهد فيه فكان جائزاً‘‘. 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200336
تاریخ22-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں