بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مستقبل میں بچوں کو فائدہ پہنچانے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکاۃ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ :

ایک شخص اس نیت سے پلاٹ خریدے کہ مستقبل میں اپنے بچوں کو فائدہ پہنچے یعنی بچوں کے فائدہ کے لیے پلاٹ خریدے تو کیا اس نیت کی وجہ سے مذکورہ شخص پر اس پلاٹ کی زکاۃ  لازم آئے گی ؟

جواب

اگر بچوں کو فائدہ پہنچانے سے مذکورہ شخص کی مراد یہ ہو کہ مستقبل میں جب یہ پلاٹ مہنگا ہوجائے تو  میں خود یا میرے بعد میرے بچے اس پلاٹ کو بیچ دیں گے اور اس کی قیمت بچوں کے کام آجائے گی تو مذکورہ شخص پر اس پلاٹ کی زکاۃ  ادا کرنا لازم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200327
تاریخ22-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں