بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ضیافت کی وجہ سے رمضان کے قضا روزے کو توڑنے کا حکم

سوال

رمضان کا قضا روزہ مہمان داری کی خاطر توڑنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

ضیافت کی وجہ سے صرف نفل روزہ توڑنے کی اجازت ہے، فرض اور واجب روزہ ضیافت کی وجہ سے توڑنا جائز نہیں ، چنانچہ رمضان کے روزے  کی قضا کے طور پر جو روزہ رکھا جائے اسے ضیافت کی وجہ سے توڑنا جائز نہیں ہوگا۔ تاہم قضا روزہ مہمان داری کی وجہ سے توڑ دیا تو ایک روزے کے بدلے ایک ہی روزے کی قضا لازم ہوگی، اس صورت میں کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 428):

"(ولايفطر) الشارع في نفل (بلا عذر في رواية)  وهي الصحيحة وفي أخرى يحل بشرط أن يكون من نيته القضاء، واختارها الكمال وتاج الشريعة وصدرها في الوقاية وشرحها، (والضيافة عذر) للضيف والمضيف (إن كان صاحبها ممن لايرضى بمجرد حضوره ويتأذى بترك الإفطار) فيفطر (وإلا لا) هو الصحيح من المذهب ظهيرية.

 (قوله: والضيافة عذر) بيان لبعض ما دخل في قوله ولايفطر الشارع في نفل بلا عذر، وأفاد تقييده بالنفل أنها ليست بعذر في الفرض والواجب". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200322
تاریخ22-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں