بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکرا بھی ذبح کرسکتے ہیں

سوال

 کیا بیٹے کی پیدائش پر عقیقہ کے لیے دو کی بجائے ایک بکرا یا بڑے جانور میں ایک حصہ کیا جا سکتا ہے؟ شرعی عقیقہ ہو جائے گا؟ میرے دو جڑواں بچے ہوئے ہیں، کیا ان کے عقیقے کے لیے ان کی طرف سے دو بکرے ذبح کرنا کافی ہوگا؟

جواب

لڑکے کی ولادت پر اگر استطاعت ہوتو (ہر ایک لڑکے کی طرف سے ) دوبکرے یا بکریاں ذبح کرنامستحب ہے۔  اور اگر دو کی وسعت نہ ہوتوایک کاذبح کرنابھی کافی ہے، لہذا آپ اپنے جڑواں  بچوں کی جانب سے دو بکرے بطور عقیقہ ذبح کرسکتے ہیں،اس سے عقیقہ ادا ہوجائے گا۔(کفایت المفتی 8/242)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200317
تاریخ21-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں