بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر کے سرہانے کتبہ لگانا

سوال

کیا قبر پر مرحوم کا نام لکھا جاسکتا ہے ضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

قبر کے سرہانے ماربل یاپتھر کاکتبہ لگاناجس پر میت کا نام تحریر ہومباح ہے، لیکن اس پر کلمہ یا قرآنی آیات لکھنا جائز نہیں ہے ،اس سے کلمہ اور کلام پاک کی بے ادبی ہوتی ہے۔فتاوی رحیمیہ میں مفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’کوئی خاص ضرورت ہو ،مثلاً: قبر کا نشان باقی رہے، قبر کی بے حرمتی اور توہین نہ ہو،لوگ اسے پامال نہ کریں ،اس ضرورت کے پیش نظر قبر پر حسبِ ضرورت نام اور تاریخ وفات لکھنے کی گنجائش ہے، ضرورت سے زائد لکھناجائز نہیں۔اور قرآنِ پاک کی آیت اور کلمہ وغیرہ تو ہرگز نہ لکھاجائے‘‘۔(فتاوی رحیمیہ 7/140،ط:دارالاشاعت-احکام میت ،باب چہارم ، ص:157،ط:ادارۃ الفاروق ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200305
تاریخ21-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں