بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

''ہاں میں کافر ہوں ''کہنے والے کا حکم

سوال

 ایک عورت کچھ شکوے شکایات کررہی تھی تو اسے کہا گیا کہ نا امیدی کی باتیں نہیں کرنی چاہیے وغیرہ وغیرہ تو اس نے غصہ میں جھنجھلا کر کہا کہ " ہاں میں کافر ہوں" تو اب اس جملہ کی ادائیگی کے بعد کیا حکم ہے؟

جواب

’’ہاں میں کافر ہوں‘‘ کلمۂ کفر ہے، ان کلمات سے آدمی اسلام سے خارج ہوجاتاہے،ایسی عورت کو توبہ کے بعد ایمان اور (اگرشادی شدہ ہے تو) نکاح کی تجدید کرنا لازم ہے،  اور آئندہ ایسے کلمات سے مکمل اجتناب کیاجائے۔ جب تک وہ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح نہیں کرلیتی، زن و شو کا تعلق رکھنا جائز نہیں ہے۔ البحرالرائق میں ہے :

’’وفي الجامع الأصغر: إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمداً لكنه لم يعتقد الكفر، قال بعض أصحابنا: لايكفر؛ لأن الكفر يتعلق بالضمير ولم يعقد الضمير على الكفر، وقال بعضهم: يكفر، وهو الصحيح عندي؛ لأنه استخف بدينه ا هـ ". (19/488) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200304
تاریخ21-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں