بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی کی میراث

سوال

 میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ میری ایک بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میری وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ 

جواب

کسی شخص کی وفات کے بعد اس کے ترکے کو ’’میراث‘‘ کہا جاتاہے، اور آدمی کی وفات کے بعد ہی اس کی وراثت کی تقسیم ہوتی ہے، زندگی میں جائیداد کی تقسیم وراثت نہیں، بلکہ تحفہ اور ہدیہ کہلاتی ہے، اور اس پر ہبہ کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ تاہم اگر  کسی شخص  کا انتقال ہو اور اس کے ورثاء میں ایک بیوہ اور دوبیٹے اور ایک بیٹی ہوتو  ترکے کے چالیس حصے کرنے کے بعد بیوہ کو پانچ حصے اور ہر ایک بیٹے کو چودہ چودہ حصے اور بیٹی کو سات حصے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200300
تاریخ21-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں