بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام مسجد کا مسجد یا استنجاخانے کی بلامعاوضہ یا بامعاوضہ صفائی کرنا

سوال

درج ذیل مسئلے کا کیا حکم ہے:

امامِ مسجد کا مسجد  کی صفائی کرنا اور استنجا خانہ دھو نا اپنی مرضی سے یا معاوضہ کےلیے ؟

جواب

1- امامِ مسجد کے لیے مسجد کی صفائی کرنے میں تو کوئی حرج نہیں خواہ معاوضہ کے لیے ہو۔البتہ نماز کے وقت لباس صاف اور شائستہ ہو اور وضع قطع صلحاء کی ہو۔

2- استنجاخانہ کی صفائی معاوضۃً  کرنامنصبِ امامت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اور بلامعاوضہ کرنے کی صورت میں نمازوں کے اوقات میں لباس کی طہارت و صفائی کا مکمل اہتمام کرنا اور صلحاء کی وضع اختیار کرنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200239
تاریخ18-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں