بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جان بوجھ کر یا بیماری کی وجہ سے رمضان کا روزہ چھوڑ دینے کا حکم

سوال

اگر رمضان میں جان بوجھ کر  یا بیماری کی وجہ سے روزہ چھوٹ جائے تو اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ دونوں صورتوں کا حکم بتادیں ۔

جواب

اگر کسی نے رمضان کے مہینے میں شرعی عذر (مرض یا سفر) کے بغیر روزہ رکھا ہی نہیں تو یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ساری زندگی روزے رکھ کر بھی وہ ثواب حاصل نہیں کیا جاسکتا جو اس دن روزہ رکھنے کی صورت میں حاصل ہوتا (مشکاۃ المصابیح)۔ البتہ اس صورت میں صرف اس روزے کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

اور اگر بیماری ایسی ہو جس میں روزہ رکھنا ممکن نہ ہو، یا مرض بڑھ جانے اور تاخیر سے شفا یاب ہونے کا غالب گمان یا تجربہ ہو یا مسلمان دین دار ڈاکٹر منع کرے تو ایسی بیماری کی وجہ سے رمضان المبارک کا روزہ چھوڑنے کی شریعت نے اجازت دی ہے، جب صحت یاب ہوجائے تو جتنے روزے چھوٹے ہوں ہر ایک روزے کے بدلے ایک روزے کی قضا کرنا ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200181
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں