بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام کمائی والے شخص کا کوئی کام کر کے اس کے حرام مال سے مزدوری وصول کرنے کا حکم

سوال

اگر کسی شخص کی کمائی حرام ہو یعنی سود اور وہ شخص میرے پاس کوئی کام لاتا ہے جو میں کررہاہوں تو ایسے شخص سے میں مزدوری لیتا ہوں تو میری مزدوری پر کوئی فرق پڑتا ہے  کہ نہیں؟

جواب

اگر مذکورہ شخص متعینہ طور پر اپنی حرام کی کمائی سے ہی آپ کو مزدوری دے گا تو حرام مال سے اجرت وصول کرنے میں کراہت آئے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200171
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں