بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ ادا کرنے سے پہلے میقات سے باہر چلے جانا

سوال

حالتِ احرام میں عمرہ ادا کیے بغیر میقات سے باہر جانا درست ہے؟

جواب

حدودِ حرم میں داخل ہونے کے بعد جلد از جلد عمرہ ادا کرلینا چاہیے، بغیر کسی وجہ کے تاخیر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، عمرہ کی ادائیگی سے قبل احرام کی ہی حالت میں رہتے ہوئے میقات سے باہر جانے سے اگرچہ دم، کفارہ، یا صدقہ لازم نہیں ہوگا، البتہ احرام کے دوران ممنوعاتِ احرام سے بچنا لازم ہوگا، اور جلد سے جلد حرم واپس آکر جس نیت سے احرام باندھا تھا اس کی ادائیگی سے فارغ ہو کر احرام سے نکلنا ہوگا۔ نیز  اس طرح میقات سے نکلنے کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔  (دیکھیے: حج کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا، از مفتی محمد انعام الحق قاسمی صاحب، مفتی دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، بعنوان: میقات سے احرام کے ساتھ باہر چلا گیا، 4 / 229) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200170
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں