بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ

سوال

1- مستحقین کو زکاۃ  کی ادائیگی کرتے ہوئے  ان کا فرائض پر عمل یا عقائد کی درستی کس حد تک معلوم کرنا ضروری ہے؟

2-  بلا واسطہ مستحقین کی ہسپتال کے اخراجات ،اسکول کی فیس وغیرہ ادا کرنے کا کیا حکم ہے، جب کہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان کو دیں تو وہ کہیں اور استعمال کریں گے؟

جواب

1- زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے مستحق شخص کے مسلمان ہونے کی یقین دہانی کافی ہے، اعمال کی پابندی زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کی شرط نہیں ہے، تاہم مصرف کی افضلیت کا باعث ہے۔

2- زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے مستحق کو زکاۃ کا مالک بناکر دینا ضروری ہے ، لہذا بلا واسطہ ان کی فیس ادا کردینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔  اگر اطمینان نہ ہو اور ہسپتال یا تعلیم کے اخراجات کی مد میں ہی زکاۃ ادا کرنی ہو تو ان کے ساتھ جاکر ان کے ہاتھ میں رقم دے کر اپنی موجودگی میں فیس وغیرہ انہیں سے ادا کروالی جائے۔

   "ویُشْتَرَطُ أنْ یَکُوْنَ الصَّرْفُ تَمْلِیْکاً لَا ابَاحَةً". (در مختار)

"فَلَایَکْفِيْ فِیْها الْاطْعَامُ إلاّ بِطَرِیْقِ التَّمْلِیْکِ"․ (رد المحتار ۳/۲۹۱) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200143
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں