بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیامت کا انکار کرنے والے کی بات میں ہاں میں ہاں ملانا

سوال

جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے،  میرے سے غلطی یہ ہوئی ہے کہ ایک شخص مجھے بول رہا تھا کہ قیامت قیامت کچھ نہیں ہے، آدمی مر گیا سب ختم، اور میں اس کی بات صحیح سمجھا نہیں تھا اور میں اس کی بات میں ہاں ہاں کر رہا تھا،  میرے ہاں کرنے کے کچھ دیر بعد میں سمجھا کہ  وہ قیامت کا انکار کر رہاتھا اور میں نے بات سمجھے بغیر ہاں بول دیا ہے۔  اب اس پر مجھ پر کیا حکم ہے؟  میں کیا کروں؟ مہربانی فرما کر میری راہ نمائی فرمائیں،  میں عجیب خیالات میں مبتلا ہوں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں خطأً ہاں میں ہاں ملانے سے کفر تو لازم نہیں آئے گا، البتہ اللہ کے حضور توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کسی کی بات سمجھے بغیر تصدیق نہ کریں۔

فتاوی تتارخانیہ میں ہے:

"وما كان خطأ من الألفاظ، لاتوجب الكفر ، فقائله مؤمن علي حاله، و لايؤمر بتجديد النكاح، و لكن يؤمر بالإستغفار و الرجوع عن ذلك". ( كتاب أحكام المرتدين، الفصل الأول، ٧/ ٢٨٤، ط: زكريا) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200141
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں