بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا روزہ ٹوٹ جائے

سوال

حالتِ اعتکاف میں قریبی مسجد سے اذان کی اواز آئی،  میں نے روزہ افطار کرلیا، جب کہ میری مسجد میں اذان تقریباً دو منٹ بعد شروع ہوئی۔  کیا میرا روزہ مکمل ہوا یا مجھے قضا کرناُہو گا؟  اور مہربانی کر کے یہ بھی بتادیں قضا کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

جواب

قریبی مسجد سے جو اذان ہوئی وہ اگر وقت ختم ہونے پر ہوئی تو آپ کا روزہ اور اعتکاف دونوں صحیح  ہیں، کبھی کسی مسجد والے 2  منٹ احتیاطاً دیر سے اذان دیتے ہیں۔لیکن اگر نقشوں میں موجود وقت سے پہلے ہی اذان دے دی گئی تھی تو روزہ کی قضا لازم ہوگی۔اور اس کے ساتھ ایک دن کے اعتکاف کی قضا بھی لازم ہوگی۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (5/ 213):
"لايصح الاعتكاف إلا بصوم، وبه قال أبو حنيفة في رواية الحسن عنه، ومن مشايخ الحنفية من اعتمد هذه الرواية". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200136
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں