بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انڈا خراب نکلے تو خیار کا حکم

سوال

بازار سے انڈا خرید کر گھر توڑ کر دیکھا تو خراب تھا۔ خیارِ  عیب کی وجہ سے اب میں بائع سے رجوع کر سکتا ہوں یا نہیں؟  میں ’’شرح الوقایہ‘‘  کا طالبِ علم ہوں اور  ’’باب الخیار‘‘  میں فصل خیار پڑھ رہا ہوں۔

جواب

مذکورہ صورت میں اگر انڈا بالکل بھی استعمال کے قابل نہیں تھا تو مکمل رقم واپس لینے کا مشتری کواختیار ہوگا اور اگر استعمال کے قابل تھا، لیکن عیب تھا تو دونوں قیمتوں میں جو فرق ہے اس کے لینے کا اختیار ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 25):
"(شرى نحو بيض وبطيخ) كجوز وقثاء (فكسره فوجده فاسدا ينتفع به) ولو علفا للدواب (فله) إن لم يتناول منه شيئا بعد علمه بعيبه (نقصانه) إلا إذا رضي البائع به، ولو علم بعيبه قبل كسره فله رده (وإن لم ينتفع به أصلافله كل الثمن) لبطلان البيع، ولو كان أكثره فاسدا جاز بحصته عندهما نهر. وفي المجتبى: لو كان سمنا ذائبا فأكله ثم أقر بائعه بوقوع فأرة فيه رجع بنقصان العيب عندهما، وبه يفتى".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200131
تاریخ16-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں